بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا؛ وینزوویلا کے سابق صدر ہوگو چاویز نے اپنی وفات سے پہلے امریکہ کے ایک منصوبے سے پردہ اٹھایا تھا، جس کے تحت واشنگٹن ان پر منشیات اسمگلنگ کا الزام لگاتا اور پھر 'کمانڈوز' انہیں گرفتار کر لیتے۔
انھوں نے امریکہ کے جاپان پر ایٹمی حملے اور سابق امریکی صدر جارج بش کے دور میں پاناما پر قبضے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا تھا: "انسانی تاریخ کے سب سے جارح ملک نے غیر مسلح شہروں ہیروشیما اور ناگاساکی پر ایٹم بم گرائے۔ انہوں نے پاناما پر قبضہ کیا، ہزاروں افراد کو بمباری کرکے قتل کر دیا، محلے کے محلے جلا کر راکھ کر دیئے تاکہ اس وقت کے پاناما کے صدر کو گرفتار کر سکیں اور ان پر منشیات کی اسمگلنگ کا الزام لگا سکیں۔"

چاویز نے پاناما کے اس وقت کے صدر مانوئل نوریگا (Manuel Antonio Noriega) کا حوالہ دیا جنہیں 1989 میں امریکی حملے کے وقت اغوا کرکے امریکہ منتقل کیا گیا اور منشیات کی اسمگلنگ کے الزام میں قید کر دیا گیا۔
چاویز نے کہا تھا: "مجھے اپنے اتحادیوں سے بھی خبردار کیا گیا ہے... "مجھے کئی جگہوں سے ایک آپریشن کے بارے میں بتایا گیا ہے جسے پینٹاگون میں تیار کیا جا رہا ہے۔"
انھوں نے کہا تھا: "یہ ایک طویل مدتی آپریشن ہے جو کئی سالوں سے جاری ہے۔ سالوں پہلے کسی نے مجھ سے کہا تھا کہ وہ آخرکار تم پر، ـ یعنی ذاتی طور پر ہوگو چاویز پر، ـ منشیات اسمگلنگ کا الزام لگائیں گے؛ یہ نہیں کہ حکومت اس کی حمایت کرتی ہے یا اجازت دیتی ہے، نہیں۔ وہ نوریگا والا فارمولا تم پر اپنانے کی کوشش کریں گے۔"
چاویز نے کہا تھا: "یہ منصوبہ امریکہ میں تیار کیا جا رہا ہے۔ وہ اس طریقے کی تلاش میں ہیں کہ براہ راست چاویز کو منشیات کی اسمگلنگ سے جوڑ دیں۔ پھر 'منشیات اسمگلنگ کرنے والے صدر' کے خلاف کچھ بھی جائز ہو گا، ہے نا؟... کمانڈوز آئیں گے اور اسے اٹھا کر لے جائیں گے۔ ہم امریکہ کی بات کر رہے ہیں۔"
اب کل صبح، امریکہ نے بالکل اسی سازش کو عملی جامہ پہنایا، جس کے بارے میں ہوگو چاویز نے سال پہلے خبردار کیا تھا۔ ڈونلڈ ٹرمپ کے حکم پر، امریکی افواج نے منشیات اسمگلنگ کے بہانے وینزویلا کی فضائی حدود کی خلاف ورزی کی اور صدر نکولس مادورو اور ان کی اہلیہ سیلیا فلورس کو اغوا کر لیا تاکہ نیویارک کے ایک عدالتی مقدمے میں ان پر الزامات لگائے جائیں۔
چاویز نے امریکہ کے عراق پر حملے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا تھا: "انہوں نے عراق پر تباہ کن ہتھیار رکھنے کے بہانے قبضہ کیا۔ کچھ نہیں ملا، کیونکہ وہاں کبھی تھا ہی نہیں۔ لیکن پھر بھی انہوں نے صدر صدام حسین کو پھانسی دے دی۔"
انھوں نے کیوبا کے انقلابی رہنما فیدل کاسترو کا ایک واقعہ بیان کرکے کہا تھا: "فیدل نے ایک بار مجھ سے کہا تھا: چاویز! اگر یہ مجھے یا تمہیں ہوا، اگر انہوں نے ہمارے ملک پر قبضہ کیا، تو تمہیں لڑتے ہوئے مرنا چاہئے۔ چنانچہ میں یہی کروں گا، محاذ پر۔ میں بھاگوں گا نہیں۔ میں محاذ پر مروں گا۔ ایک ایسے وینزویلن کی طرح جو اپنے ملک سے محبت کرتا ہے۔"
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
110
آپ کا تبصرہ